سفارتی ذرائع کے مطابق اقوامِ متحدہ کے سینئر سفارت کار محتاط طور پر پُرامید ہیں کہ چین اور روس ممکنہ طور پر امریکی سرپرستی میں غزہ میں عالمی استحکام فورس (آئی ایس ایف) کی تعیناتی کی منظوری سے متعلق پیش کی جانے والی سلامتی کونسل کی قرارداد پر ویٹو استعمال کرنے کے بجائے غیر حاضر رہ سکتے ہیں، جو جنگ بندی کے بعد غزہ کے مستقبل کے لیے اقوامِ متحدہ کی صلاحیت کا ایک اہم امتحان ہے۔
امید ہے کہ قرارداد کا مسودہ پیر کو سلامتی کونسل میں رائے دہی کے لیے پیش ہوگا، اور اس وقت منظور ہوجائے گا جب اسے 9 حمایتی ووٹ ملیں، اور 5 مستقل اراکین (امریکا، چین، روس، برطانیہ اور فرانس) میں سے کوئی ویٹو نہ کرے۔
ایک سینئر سفارت کار نے کہا کہ چین قرارداد کو ویٹو نہیں کرے گا، لیکن روس کا مؤقف غیر یقینی اور اہم بھی ہے، ایک اور سفارت کار نے کہا کہ چین اور روس، ممکن ہے کہ دونوں غیر حاضر رہیں، مگر وہ ویٹو استعمال نہیں کریں گے۔
امریکا کی جانب سے باضابطہ طور پر پیش کیا گیا مسودہ قرارداد 2 سالہ مینڈیٹ کے ساتھ ’بورڈ آف پیس‘ نامی ایک عبوری ادارہ قائم کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس کی سربراہی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کریں گے، جیسا کہ اُن کے 20 نکاتی غزہ پلان میں تجویز کیا گیا ہے۔